بدھ 7 اکتوبر 2026 - 20:27
دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے مہتمم مولوی ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی کا انتقال

حوزہ/ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے مہتمم، معروف عالمِ دین، مدرس، ادیب اور صاحبِ قلم مولوی ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی کے انتقال سے علمی و تعلیمی حلقوں میں افسوس کی لہر دوڑ گئی۔ انہوں نے اپنی طویل علمی زندگی تدریس و تربیت، عربی ادب و صحافت اور دارالعلوم ندوۃ العلماء کی علمی و انتظامی ذمہ داریوں کی انجام دہی میں گزاری اور برصغیر کے علمی و تعلیمی منظرنامے میں اپنی ایک نمایاں شناخت قائم کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لکھنؤ/ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے مہتمم، معروف عالمِ دین، مدرس، ادیب اور صاحبِ قلم مولوی ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی کے انتقال کی خبر سے علمی و تعلیمی حلقوں میں افسوس کی لہر دوڑ گئی۔ ان کے انتقال کو برصغیر کے علمی و دینی حلقوں میں ایک اہم علمی شخصیت کی جدائی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مولوی سعید الرحمن اعظمی نے اپنی طویل علمی زندگی میں تدریس، تربیت، عربی ادب، صحافت، تصنیف و تالیف اور ادارہ جاتی ذمہ داریوں کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں۔

ان کی شخصیت کی نمایاں خصوصیت علم کے ساتھ عمل، تدریس کے ساتھ تربیت اور انتظامی ذمہ داری کے ساتھ احساسِ فرض تھی۔ دارالعلوم ندوۃ العلماء سے ان کی طویل وابستگی نے انہیں ادارے کی علمی و تعلیمی روایت کا ایک اہم حصہ بنا دیا تھا۔ وہ ندوہ کو محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ایک علمی امانت سمجھتے تھے اور اس کی تعلیمی و انتظامی ذمہ داریوں کو پوری سنجیدگی کے ساتھ انجام دیتے رہے۔

مولوی سعید الرحمن اعظمی کی تدریسی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو ان کا طلبہ کی علمی اور عملی تربیت پر خصوصی توجہ دینا تھا۔ ان کی کلاس میں داخل ہوتے ہی طلبہ کو علم کی اہمیت، استاد کے وقار اور درس کی سنجیدگی کا احساس ہوتا تھا۔ وہ عبارت کی صحت، زبان کی نزاکت، درست املا اور علمی دقت کے معاملے میں خاص حساسیت رکھتے تھے۔ عربی ادب، بلاغت اور اسلامی علوم کے دقیق مباحث کو نہایت توجہ اور انہماک کے ساتھ پڑھاتے، تاہم ان کی تدریس صرف کتاب کے متن تک محدود نہیں رہتی تھی بلکہ طلبہ کے علمی ذوق، زبان، تحریر اور فکری تربیت پر بھی اثر انداز ہوتی تھی۔

طلبہ کی عملی تربیت کے سلسلے میں بھی ان کا انداز نمایاں تھا۔ وہ تحریر اور خوش خطی کی پابندی، درست املا، کام میں سلیقہ، وقت کی پابندی اور اپنی ذمہ داریوں کے احساس پر خاص زور دیتے تھے۔ ان کے نزدیک ایک طالب علم اور ایک ذمہ دار فرد کے لیے محض علمی معلومات کافی نہیں بلکہ نظم و ضبط، حسنِ اخلاق اور اپنے فرائض کی ادائیگی بھی ضروری تھی۔

وقت کی پابندی ان کی شخصیت کا نمایاں وصف تھی۔ جب تک ان کے سپرد امامت کی ذمہ داری رہی، نمازوں کے اوقات کی پابندی میں غیر معمولی اہتمام کرتے تھے۔ ندوہ کے حلقوں میں ان کی وقت شناسی کے حوالے سے یہ بات معروف تھی کہ لوگ ان کی آمد سے اپنی گھڑی تک ملا لیا کرتے تھے۔ جمعہ کے خطابات میں بھی وہ رسمی گفتگو کے بجائے وقت کے اہم مسائل اور معاشرے کی ضروریات کو موضوع بناتے تھے۔ ان کی گفتگو میں سادگی کے ساتھ براہِ راست اثر پیدا کرنے کی صلاحیت پائی جاتی تھی۔

عربی ادب و صحافت سے وابستگی

مولوی سعید الرحمن اعظمی کی علمی شخصیت کا ایک اہم پہلو عربی ادب اور صحافت سے ان کی گہری وابستگی تھی۔ ماہنامہ البعث الإسلامي سے ان کی طویل رفاقت اور ادارت نے عربی دنیا میں ندوۃ العلماء کی علمی سرگرمیوں اور فکری آواز کو پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے اداریے، مضامین اور دیگر تحریری خدمات ان کی صاحبِ قلم شخصیت کی عکاسی کرتے ہیں۔

ان کی علمی زندگی تدریس تک محدود نہیں تھی بلکہ تصنیف، صحافت، خطابت اور دعوت کے مختلف میدانوں تک پھیلی ہوئی تھی۔ عربی ادب کے میدان میں ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں 1994ء میں صدرِ جمہوریہ ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ ان کی زندگی اور علمی و ادبی خدمات کے مختلف پہلوؤں پر ایک مفصل تحقیقی کتاب بھی شائع ہو چکی ہے، جس میں ان کی تدریسی، ادبی، صحافتی اور انتظامی زندگی کا جائزہ لیا گیا ہے۔

دارالعلوم ندوۃ العلماء کی ذمہ داری

مولوی سعید الرحمن اعظمی نے دارالعلوم ندوۃ العلماء کے مہتمم کی حیثیت سے بھی طویل عرصے تک ذمہ داریاں انجام دیں۔ گزشتہ پچیس برس سے زائد عرصے سے وہ ادارے کی انتظامی ذمہ داریوں سے وابستہ رہے اور ندوۃ العلماء کے تعلیمی و انتظامی نظام کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کیا۔

ان کی نظر میں ادارے کی ذمہ داری صرف انتظامی امور کی انجام دہی کا نام نہیں تھی بلکہ اس کے علمی مزاج، تعلیمی روایت اور طلبہ کی تربیت کو برقرار رکھنا بھی اس ذمہ داری کا حصہ تھا۔ اسی وجہ سے ان کی شخصیت میں مدرس، مربی اور منتظم کے مختلف پہلو یکجا نظر آتے تھے۔

مولانا سید صادق حسینی کا اظہارِ افسوس

مولوی سعید الرحمن اعظمی کے انتقال پر مؤسسہ تقریبِ مذاہبِ ہند کے چیئرمین حجۃ الاسلام و المسلمین سید صادق حسینی نے گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مولوی سعید الرحمن اعظمی، مدیر و مہتمم دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ، کا انتقال برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک علمی خسارہ ہے۔ ان کی علمی، ثقافتی اور تربیتی خدمات آنے والی نسلوں کے لیے ایک اہم سرمایہ ہیں۔

دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے مہتمم مولوی ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی کا انتقال

مولانا سید صادق حسینی نے کہا کہ اخوتِ اسلامی اور امت کے درمیان وحدت کے سلسلے میں مولوی سعید الرحمن اعظمی کی کوششوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی مولوی سعید الرحمن اعظمی سے متعدد مرتبہ ان موضوعات پر گفتگو ہوئی اور وہ امت کے درمیان انتشار اور فرقہ واریت کے مسئلے پر گہری تشویش اور درد کا اظہار کرتے تھے۔

مولوی سعید الرحمن اعظمی کی وفات سے علمی، تعلیمی اور ادبی حلقوں میں ایک ایسا خلا پیدا ہوا ہے جس کا احساس طویل عرصے تک کیا جائے گا۔ ان کی تدریسی خدمات، عربی ادب و صحافت سے وابستگی، طلبہ کی تربیت اور دارالعلوم ندوۃ العلماء کی ذمہ داریوں کی انجام دہی ان کی علمی زندگی کے نمایاں ابواب کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔

مختصر سوانح

مولوی ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی کی پیدائش 14 مئی 1934ء کو مئو، اعظم گڑھ میں ہوئی۔ ابتدائی علمی تعلیم اور عالمیت و فضیلت کی تکمیل جامعہ مفتاح العلوم، مئو سے کی، جبکہ تخصص و تکمیلِ تعلیم دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ سے حاصل کی۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے وہ بغداد یونیورسٹی، عراق گئے۔

1955ء سے وہ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ سے تدریسی طور پر وابستہ رہے اور کئی دہائیوں تک درس و تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے۔ بعد ازاں ادارے کی انتظامی ذمہ داریاں بھی سنبھالیں اور پچیس برس سے زائد عرصے تک مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔ عربی ادب کے میدان میں ان کی خدمات کے اعتراف میں 1994ء میں صدرِ جمہوریہ ایوارڈ سے نوازا گیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha